Article Image

زندگی گزارتے ہیں فرعون کی طرح اور موت چاہتے ہیں حضرت موسی علیہ السلام کی طرح

زندگی گزارتے ہیں فرعون کی طرح اور موت چاہتے ہیں حضرت موسیؑ کی طرح
قاضی فضل اللہ شمالی امریکہ
انسان کو پیدا تو خلیفہ کے نام سے کیا گیا ہے کہ خداکا نائب رہے گا اور زندگی کے ہر میدان میں احکام خداوندی کی پاسداری کرے گا۔لیکن اس میں چونکہ اللہ نے ابتلاء وامتحان اور مجازاۃ کے لیے بہیمیت اور ملکیت دونوں عناصر رکھے ہیں اور اسے مادی دنیا میں لاکے چھوڑ دیا ہے لہذا وہ بہیمیت اور اس کی خواہشات کی وجہ سے مادیات اور شہوات وخواہشات میں مستغرق رہتا ہے ۔اسے متنبہ کرنے اور راہ راست پر ڈالنے کے لیے انبیاء ورسل بھجوائے گئے۔جس طرح اسے پیدا کرنا اللہ کا احسان ہےپھر اسے عقل سے نواز کر کائنات کو اس کے لیے مسخر کرنا اللہ کا احسان ہے اس طرح اسے مکلف کرنا اور اس کا امتحان لینا بھی خدا کا احسان ہی ہے تاکہ وہ امتحان میں کامیاب ہوکے سعادت حقیقی ابدی سے سرفراز ہو۔سعادت حقیقی ابدی کا حصول عبادت خداوندی ہی سے ممکن ہے اور عبادت خداوندی اطاعت حق اور خدمت خلق کا نام ہے۔
اب یہ میدان تو بہت وسیع ہے اور اس سعادت کے حصول کے لیے بہت سارے طریقے ہیں لیکن ان کو چار اساسی خصلتوں میں سمویاجاسکتا ہے:
1۔طہارت 2۔اخبات 3۔سماحت 4۔عدالت
1۔طہارت تو معلوم ہے کہ ظاہری پاکیزگی اور باطنی پاکیزگی دونوں کو شامل ہے ۔
2۔اخبات تواضع ،عاجزی اور انکساری کے ساتھ خدا کی اطاعت کرنا ہے۔
اب طہارت تو شخصی پاکیزگی ہے جبکہ اخبات خالق کے ساتھ تعلق استوار کرنا ہے۔
3۔سماحت بہیمیت کے تقاضوں کو مہذب کرنے کا نام ہے تاکہ نفس ناطقہ بہیمیت کے تقاضوں کے سامنے سرنگوں نہ ہو اور یوں وہ خلق خدا کے ساتھ احسان کنندہ بن جائے۔سماحت زیادہ تر تو مالی سخاوت کے معنی میں استعمال ہوتی ہے لیکن اس کے میدان اس کے علاوہ بھی ہیں تو مال میں سماحت تو سخا ہے اس طرح پیٹ اور عورت غلیظہ کے حوالے سے سماحت کا معنی عفت اور حیاء ہے۔
انسان آرام طلبی بھی چاہتا ہے اس میں سماحت ہے ،جفاکشی ،صبر واستقامت اور تحمل معاصی کے حوالے سے سماحت کا معنی ہے کہ معاصی کے بواغت ودواعی سے بندہ دور رہے۔
4۔اور عدالت یعنی انصاف کہ معاشرہ میں وہ کسی کا حق نہ مارے بلکہ حقدار کو اس کا حق دے۔
یہ چاروں خصال علمی اور عملی کمال کے ذریعے آتی ہیں اور یہ کمال مطلوب ومامور ہے ۔
علمی کمال اعتقاد اورفہم ہے تاکہ یہ چیزیں علمی اعتبار سے نفس ناطقہ پر مرتسم ہوں ۔
اور عملی کمال یہ کہ پھر ان کے تقاضوں پر عمل ہو تاکہ یہ نفس میں کندہ ہوجائیں۔
اب یہ علمی اور عملی کمال کسی کو حاصل ہو تو اس سے جو مرکب حالت پید ہوتی ہے اس کو اس شخص کا مزاج یا اس کی فطرت کانام دیا جاتا ہے جس کے حصول کے لیے تو یہی مذکورہ چار خصلتیں اساسی ہیں لیکن اس کے آگے پردے اور موانع بھی بنتے ہیں جن میں بڑے بڑے تین ہیں:
1۔ایک کسی بندے کا شخصی مزاج جو اس کے جینز(ڈی این اے)اور ماحول کے امتزاج سے بنتا ہے۔
2۔دوسرا رسم ورواج
3۔اور تیسرا سوء معرفت
یعنی کسی بندے کو ان خصال اور یوں سعادت حقیقیہ ابدیہ سے یا اس کا مزاج روکے رکھتا ہے یا پھر رسم ورواج یا اس کی نافہمی یا پھر بد فہمی۔
پھر ایسا بندہ تو خدا کی پہچان ہی میں غلطی کرجاتا ہے ۔یا تو وہ خدا کو مخلوق کی طرح تصور کرتا ہے یا پھر مخلوق کو خدا کی طرح مان لیتا ہے۔اول الذکر کو تشبیہ اور ثانی الذکر کو اشراک کہتے ہیں۔
حجاب الطبع اس وجہ سے آتا ہے کہ انسان خواہشات رکھتا ہے مثلاً کھانا پینا اور مجامعت کا تقاضا ،اور ساتھ ساتھ اس کو مختلف وجوہ سے کیفیات جیسا کہ غصہ ،خوف ،غم اور خوشی وغیرہ بھی عارض ہوتے ہیں اور یہ کیفیات اس کو طویل وقت تک عارض ہوں کیونکہ اس کا نفس ان کیفیات سے پہلے ان کے اسباب کو متوجہ ہوتا ہے اور نفس کسی چیز کو اپنے اوپر لیتا ہے تو اس کے علمی قوتیں ان چیزوں کے سامنے گردن نہاد ہوجاتا ہے لہذا یہ اس پر کندہ ہوجاتے ہیں اور وہ پھر کمال کے حصول کو توجہ دینے کے لیے وقت نہیں نکال پاتا حتی کہ وہ ان چیزوں میں دھنس جاتا ہے ۔یہ کیفیات ختم بھی ہوجاتے ہیں لیکن ان کا میل کچیل اس نفس پر باقی رہتا ہے حتی کہ پھر وہ نہ عقل کو دیکھتا ہے نہ رسوم ورواج کو اور نہ کسی کے ملامت کرنے سے اس کو کوئی فرق پڑتا ہے اس کو نفس کہتے ہیں۔البتہ جس کا عقل تام ہو اور وہ چوکنا بھی ہوتو وہ دیگرعلوم وکمالات کے حصول کے لیے وقت نکال پاتا ہے یا عاقلہ یعنی قوت علمی کے اساس پریا عاملہ یعنی قوت عملی کے اساس پر تو وہ بصیرت کی آنکھوں سے اپنی قوم کو کچھ تدابیر نافعہ حلیہ باہمی مفانست لیکن خیرکے لیے فصاحتوں اور صناعتوں میں دیکھ پاتا ہے تو اسے دل سے قبول کرلیتا ہے اس کو حجاب الرسم یا حجاب الرواج کہتے ہیں۔اس کو دنیا کہتے ہیں البتہ بعض لوگ حجاب الطبع سے حجاب الرسم کی طرف تو نکل آتے ہیں لیکن وہ اسی میں مستغرق رہ جاتے ہیں تاآنکہ ان پر موت آجائے ۔اب یہ سارے معاملات تو بدن اور آلات سے انجام پارہے تھے اور موت سے بدن تو غیر متحرک رہ جاتا ہے اور ان امور کا نفس ناطقہ سے تو تعلق ہے نہیں لہذا وہ کمالات سے عاری اور ننگا رہ جاتا ہے البتہ اگر حجاب الرسم کی حالت میں کوئی بندہ زیرک اور بیدار ہو تو کسی برہانی یا خطابی دلیل سے یا پھر شریعت کی تقلید سے اس کو یقین پیدا ہوجاتا ہے کہ اس کا ایک غالب رب ہے جو سب سے بلند وبرتر ہے ان کے سارے معاملات کا مدبر ہے اور ان کو انعامات موجودہ دینے والے بھی ہیں تو پھر اس کا قلبی میلان اور قلبی محبت اس کے ساتھ پیدا ہوجاتا ہے وہ اس کے تقرب کی بھی کوشش کرتا ہے اور اپنے حاجات بھی اس سے مانگا کرتا ہے البتہ کوئی اس میں صائب ہوجاتا ہے اور کوئی خطا کرجاتا ہے اور س خطا کا باعث یا تو تشبہ ہوتا ہے یا پھر اشراک حتی کہ جو لوگ شریعت میں بھی ہوتے ہیں ان کے لیے بھی کچھ اوقات ہوتے ہیں کہ وہ حجاب الطبع میں مستغرق ہوتھوڑا یا بہت اور کچھ اوقات میں وہ حجاب الرسم میں استغراق رکھتا ہے اس وقت اس کے لیے مہم ہوتا ہے کہ وہ اپنے قوم کے بڑوں کی نقل اتارتا ہے باتوں میں ،لباس میں ،حرکات میں اور معاشرت وغیرہ میں اور کچھ اوقات وہ ہوتے ہیں جس میں وہ سنتا رہتا ہے ہر قسم کی بات لیکن وہ جبروت کی باتیں اور عالم میں تدبیر غیبی کی باتوں کو توجہ نہیں دیتا یہی سوء معرفت ہے کہ اس نے کما حقہ یا کم از کم مطلوب معرفت حاصل نہیں کیا۔
اب یہ پردے ہٹائے بھی جاسکتے ہیں لیکن کیسے؟
تو جحاب الطبع دفع کرنےکے لیے دو طریقے ہیں:
1۔ایک طریقہ وہ ہے جس کا کہ حکم دیا جاتا ہے اسے اپنانے کی ترغیب اور س پر تیزی دی جاتی ہے اور اس کے مختلف طریقے مختلف لوگ اپناتے ہیں جیسا کہ ریاضات شاقہ کرنا ،زیادہ وقت جاگے رہنا یا تسلسل سے روزے رکھنا جبکہ بعض تو اس سے بھی آگے جاتے ہیں تو وہ تو آلہ تناسل ہی کو کاٹ دیتے ہیں یا کسی دوسرے عضو کو ناکارہ کردیتے ہیں یہ جہالت اور بے وقوفی ہے جبکہ بیداری اور روزے رکھنا بھی جراثیم کش دواؤں کی طرح ہے اس کا استعمال بھی بقد ر ضرورت چاہئے۔
2۔اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس پر وہ اوپر سےمسلط کیا جائے اس کی مرضی ہو یا نہ ہو جیسا کہ جو بندہ سنۃ راشدہ کا خلاف کرتا ہو اور طبیعت کی پیروی کرتا ہے تو اس پر انکار کیا جائے اور اسکو طبیعت کے اس غلبے سے چھٹکارا حاصل کرنے کا طریقہ سکھایا جائے لیکن اس میں ان پر نہایت تنگی نہ لائی جائے۔البتہ سارے لوگوں کے باب میں یہ انکار اور نکیر کارگر نہیں ہوا کرتا ان کو دردناک مار یامہلک قسم کا جرمانہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔جیسا کہ اگر وہ قتل یا زنا کا ارتکاب کرچکا ہو۔
دنیاکے رسم ورواج کے حجاب کا ازالہ ذکر اللہ سے ہوتا ہے کچھ الفاظ وکلمات واوراد کے یاد سے اور اس طرح زندگی کے معاملات میں اللہ کے وضع کردہ حدود وقیود کالحاظ رکھنے سے ہوتا ہے۔اس طرح عامۃ الناس کے لیے کچھ عبادات کا عام کرانا ان سے اس کی پابندی کروانا اور نہ کرنے پر ان کی توبیخ کرنا بھی کارگر ہوتا ہے اور جو اس میں غفلت اور لاپرواہی برتے تو ان کو کچھ مرغوبات سے محروم کیا جائے ۔
اور جو سوء معرفت کا پردہ ہے جس سے کہ اشراک اور تشبیہ کی بدعقیدگیاں پیدا ہوتی ہیں اس کا ازالہ یوں ممکن ہے کہ عوام کو ان کے فہم کی حد تک اللہ کی ذات اور صفات کے متعلق بتایا جائے کیونکہ جو چیز ان کے فہم سے بالا ہو اس سے تو وہ گمراہ ہوجائیں گے ۔عقلاء وحکماء فرماتے ہیں کہ عوام کو عمیق علمی باتیں نہ کی جائیں ورنہ گمراہی کا خطرہ ہے کیونکہ وہ سمجھیں گے نہیں اور اپنے ناقص فہم کے اساس پر وہ اس کا غلط مطلب نکالیں گے اور عام علماء سے فلسفیانہ باتیں نہ کی جائیں ورنہ وہ پھر آپ کو ملحد وزندیق کہہ دیں گے یعنی اول الذکر میں مخاطبین کے لیے خطرہ ہے اور ثانی الذکر میں متکلم کے لیے خطرہ ہے۔اور اگر سوء معرفت کا حجاب اس لیے ہے کہ لوگوں کو دنیا ومافیہا سے فرصت نہیں اس لیے ان کو معرفت حاصل نہیں ہوتی تو ان کو ترغیب دی جائے یا وہ خود کوشش کرے کہ دنیا کی یہ عمیق محبت دل ودماغ سے نکال دے اس کے لیے زیادہ سے زیادہ عبادات کی جائیں ،تنہائی میں بیٹھ کر خدا کے تصور پر فوکس کرے ،اس کی ذکر کرے ، موت اور آخرت کی اپنے آپ کو تذکیر کروائے اور امکان کی حد تک اشغال دنیا سے نکل آئے۔یعنی دنیا کو دل سے نکالے یہ نہیں کہ مکمل تارک الدنیا بنے۔اس طرح ان حجابوں کا مکمل ازالہ تو نہیں ہوسکتا البتہ یہ حجابات کمزور پڑجائیں گے اور یوں زندگی میں اطمینان نصیب ہوگا اور آخرت میں نجاح وفلاح حاصل ہوگا۔قرآن کریم نے فرمایا
من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیہا ما نشاء لم نرید ثم جعلنا لہ جہنم یصلہا مذموما مدحوراومن اراد الآخرۃ وسعی لہا سعیہا وھو مومن فاولیک کان سعہیم مشکوراکلا نمد ھولاء وھولاء من عطا ربک وما کان عطاء ربک محظورا(بنی اسرائیل)
جو عجلت سے گزرنے والی اس دنیا کو چاہتا رہتا ہے تو ہم اسے (یہاں)دے دیتے ہیں اس (دنیا)میں جتنا کہ ہم چاہیں اور جس کو کہ ہم چاہیں پھر مقرر کیا ہے ہم نے اس کے لیے جہنم داخل ہوگا وہ اس میں مذمت شدہ دھکیلا ہوا۔اور جس نے آخرت چاہی اور اس کے لیے اس کے موافق کوشش کی تو یہی لوگ ہیں جن کی کوشش مشکور (یعنی موجب)ہے سب کا ہم امداد کرتے ہیں ان کا بھی اور ان کا بھی آپ کے رب کی عطاء سے اور آپ کے رب کی عطا تو کسی سے بھی منع نہیں کیا گیا ۔
مزید فرمایا
من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتہا نوف الیہم اعمالہم فیہا وھم فیہا لا یبخسون اولئک الذین لیس لہم فی الآخرۃ الا النار وحبط ما صنعوا فیہا وبطل ما کانوا یعملون(ھود)
جو چاہتا رہتا ہے دنیوی زندگی اور اس کی زینت تو دے دیتے ہیں ان کو ہم(بدلہ)ان کے اعمال (یعنی محنت)کا اور ان کے ساتھ اس میں کمی نہیں کی جاتی یہی لوگ ہیں کہ نہیں انکے لیے آخرت میں بلکہ صرف آگ اور زائل ہوجاتا ہے جو کہ وہ کرچکے ہیں اور باطل ہیں وہ جو وہ عمل کرتے رہے۔
نیز فرمایا
فاما من طغی واٰثر الحیوۃ الدنیا فان الجحیم ھی الماوی واما من خاف مقام ربہ ونھی النفس عن الھوی فان الجنۃ ھی الماویٰ(عبس)
سو جس نے سرکشی کی اور ترجیح دی دنیوی زندگی کو تو جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے اور جو ڈرا اللہ کے مقام (عظمت یا اس کے سامنے کھڑے ہونے )سے اور روکا اپنے نفس کو خواہشات سے تو جنت اس کا ٹھکانا ہے ۔
سو معلوم ہوا کہ یہ فطرت ایسا کیوں ہے؟
اس لیے کہ امتحان مقصود ہے اور امتحان بھی انسانوں کے خیر کے لیے ہے کہ ان کو درجات ملیں گے
من عمل صالحا فلنفسہ
کہ جس نے عمل کیا نیک تو اس کے اپنے لیے ہے
اور
ومن اساء فعلیہا
اور جس نے برائی کی تو اس پر اس کا وبال ہے۔
وما ربک بظلام للعبید
اور نہیں رب آپ کا ظلم کرنے والا بندوں پر ۔
لیکن ہماری کم فہمی یا سوء فہم کہ ہم زندگی فرعون کی طرح طغیان وسرکشی اور نافرمانی کی گزارنا چاہتے ہیں اور موت حضرت موسی علیہ السلام کی طرح چاہتے ہیں ۔یہ سمندر کے دو دھانے ہیں جو کبھی بھی آپس میں نہیں ملتے بلکہ ایک دوسرے کے متوازی چلتے ہیں اور دو متوازی خطوط جب تک متوازی رہتے ہیں تو وہ آپس میں نہیں ملنے والے۔
انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے خیر وشر کی صلاحیت رکھی ہے اور یہ عقل کی وجہ سے ہے لیکن اس کی بہیمیت کی وجہ سے ہمیشہ اور اکثریت میں عقل بہیمیت کی تابع ہوجاتی ہے اور یوں بندے پر وہ تین حجابات یعنی حجاب الطبع ،حجاب الرسم اور حجاب سوء المعرفہ چھائے رہتے ہیں ۔ان کو سکھانے ،راہ دکھانے اور سدھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل بھجوائے ۔حکماء کے نزدیک انسانوں کا روح ہے جو ان کی حیات کا ذریعہ بنے تو روح کہلاتا ہے اس میں کلیات کے ادراک کی صفت ہے تو پھر اس کو عقل کہا جاتا ہے اور جب وہ عملاً تدبیر امور کرتا ہے تو فلاسفہ اس کو پھر نفس ناطقہ کہتے ہیں ۔ایک مثال سے اس کی وضاحت یوں کی جاسکتی ہے کہ بجلی کو لیجئے اس کوبلب سے گزاریں تو روشنی دیتی ہے ،پنکھے سے گزاریں تو ہوا دیتی ہے ،ائر کنڈیشنز سے گزاریں تو ٹھنڈی ہوا اور ہیٹر سے گزاریں تو حرارت پیدا کرتی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس عقل کو سدھانے کے لیے انبیاء ورسل اور کتب بھجوائے ۔اب عقل ان کی تعلیمات کے پیچھے لگ جائے اور پھر نفس ناطقہ کی صورت میں تدبیر علمی اور تدبیر عملی کرے تو خدا کی شناخت کا سفر شروع ہوجاتا ہے اور یہ سفر تادم آخرین جاری رہتا ہے اور موت سے اس کی تکمیل ہوجاتی ہے ۔علامہ مرغینانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ موت سے شے کی تکمیل ہوجاتی ہے ۔اب تدبیر علمی عقیدہ فائدہ کرتا ہے اور تدبیر عملی اعمال فائدہ کرتا ہے کسی میں ہر دو ہوں یعنی تدبیر علمی اور عقیدہ تو جومطلوب ہے وہ کل کا کل ہو اور تدبیر عملی اور اعمال اچھے بھی ہوں اور بہت سارے ہوں تو اس بندے کا نفس نفس مطمئنہ بن جاتا ہے۔
یاایتہاالنفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی(الفجر)
یہ انبیاء کرام اور اولیاء وصلحاء کے نفوس ہیں کہ ان کو ہر وقت خدا یاد رہتا ہے اور یہ مذکورہ اطمینان اس یاد رہنے سے حاصل ہوتا ہے۔
الذین آمنوا وتطمئن قلوبہم بذکراللہ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب
اور خدا کے یاد رہنے کا معنی یہ ہے کہ ہر کام کرتے ہوئے یہ تصور اور عقیدہ رکھنا کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔حدیث پاک میں ہے کہ
احفظ اللہ تجدہ تجاھک
اللہ کو یاد رکھا کر آپ اسے سامنے پائیں گے۔
اور پھر ایسا بندہ غلط بات اور غلط کام نہیں کرتا۔
اور جو لوگ عقل کو بہیمیت کے پیچھے لگا دیتے ہیں تو اس کے نفس ناطقہ کی تدبیر بھی بہیمیت کے تابع ہوتی ہے ۔اب اگر یہ تدبیر علمی کے میدان میں ایسا ہو تو کفر وشرک ،الحاد وتزندق کا حامل ہوگا اس کے نفس کو امارہ بالسوء کہتے ہیں
ان النفس لامارۃ بالسوء
اور اگر یہ اتباع بہیمیت صرف تدبیر عملی کے میدان میں ہو تو بندہ کا عقیدہ تو صحیح ہوتا ہے اعمال خراب ہوتے ہیں اور اس کو اس کے خراب ہونے کا احساس بھی ہوتا ہے اس لیے کہ اس کے قویٰ علمیہ اس کو بار بار یہی احساس دلاتے رہتے ہیں اور وہ ظاہراً مانے یا نہ مانے کہے یا نہ کہے لیکن دل ہی دل میں وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا رہتا ہے کہ اس پر وہ حجاب الطبع اور حجاب الرسم توپڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک بندہ برے اعمال کے حوالے سے مشہور ہوگا لیکن وہ بھی کسی عالم اور صالح بندے کے سامنے آتا ہے تو اس کے سامنے عاجزی اور تواضع اظہار کرتا ہے یہی وہ دلالۃً ملامت ہے جو اپنے آپ کو کررہا ہوتا ہے تو یہ نفس لوامہ ہے
ولا اقسم بالنفس اللوامۃ
بہرتقدیر سعادت حقیقیہ ابدیہ کے حصول کے لیے وہ مذکورہ خصال اربعہ حاصل کرنا ضروری ہے اور اس کے لیے لازم ہے کہ ان حجابات سے کافی حد تک چھٹکارا حاصل ہو یعنی یہ انسان پر غالب نہ رہیں ۔اس کے لیے ایسے انسان کویا تو ترغیبات وترہیبات دیے جاتے ہیں تاکہ یہ ان حجابات سے نکل آئے یا اگر ان حجابات کی وجہ سے اس کے جرائم اس کے اوروں کے لیے اور معاشرےکے لیے بھی مضر ہوں اور زیادہ مضر ہوں تو اس کو بدنی اور مالی سزا دینا ضروری ہے جیسا کہ چوری ،ڈاکہ ،زنا وغیرہ میں ضروری ہے اس سے حجاب الطبع کا غلبہ ختم ہوجاتا ہے۔
جبکہ حجاب الرسم کے غلبے کو ختم کرنے کی تدبیر اور طریقہ یہ ہے کہ ہر ارتفاق کے ساتھ اللہ کا ذکر ہو کبھی الفاظ سے اور کبھی ان حدود وقیود کے ذریعے جن کا لحاظ صرف اللہ کے لیے کیا جاتا ہے۔
اور دوسرا یہ کہ کچھ طاعات اور عبادات کا ایسا اجراء اور جریان ہو کہ وہ ظاہر نظر آئیں اور اس کے ترک پر سرزنش ہو نیز جاہ ومال جیسے مرغوبات سے باز رکھنا بھی کارگر ہوتا ہے۔ان تدابیر سے رسوم سے فتنہ ختم ہوجاتا ہے اور وہ عبادات کی موید اور حق کی طرف دعوت بن جاتی ہے۔
اور سوء معرفت کی وجہ سے جو تشبیہ اور اشراک ہیں وہ یا تو اس وجہ سے ہوتی ہیں کہ بندہ خدا کو پہچان نہیں پاتا کہ وہ اس کے عقل وفہم سے بالا تو ہے تو وہ اس کی پہچان میں غلطی کرجاتا ہے اس لیے ایسے بندے کو خدا کی معرفت اس کے فہم کے مطابق کیا جانا چاہئے۔
اور دوسرا یہ کہ انسان محسوسات ومشاہدات میں اتنے غرقاب ہوتے ہیں کہ ان کے علمی قوی کو ان چیزوں نے بھردیا ہے تو ان کے پاس وقت ہی نہیں کہ خدا کی معرفت حاصل کریں ۔سو اس کے لیے ریاضات اور اعمال ضروری ہیں اور ان چیزوں میں مشغول رہنے سے لاتعلقی کرنا ضروری ہوتا ہے ورنہ دنیا ومافیہا میں مستغرق رہنا تو فرعون بنادیتا ہے اور فرعون کبھی موسیٰ کی موت نہیں مرا کرتا چاہے وہ اس کی آرزو بھی کرتا رہے ۔ایسا بندہ مرتا ہے تو یہ سارے اعمال ومعاملات تو بدن کے تھے جو تو ختم ہوگیا اور روح پر ان اعمال کا زنگ تو پڑچکا ہوتا ہے لہذا ایسا بندہ موت سے کچھ پہلے بھی، موت کے وقت بھی اور موت کے بعد بھی تکلیف میں رہتا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو بری زندگی سے بھی بچائے ،موت سے پہلے بھی اور موت کے وقت بھی برے حالات سے بچائے اور موت کے بعد بھی برے حالات سے محفوظ رکھے آمین۔
؎ این دعا از من واز جملہ جہاں آمین باد

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H