Article Image

واہ رے چائے تری چاہ نرالی دیلھی

"واہ رے چائے تری چاہ نرالی دیکھی"

(ناصرالدین مظاہری)

یہ سچ ہے کہ چائے قدرت کا انمول تحفہ ہے، چائے کے شوقین چائے کی چاہت اور آہٹ پر کشاں کشاں کہیں سے کہیں پہنچ جاتے ہیں، چائے کی لذت اور لطافت کی صحیح تصویر اور صحیح تفسیر وتفصیل صرف وہی بیان کرسکتے ہیں جن کو چائے کا لطیف ذوق اور اچھا شوق ہو ورنہ جن لوگوں کو چائے کا شوق نہ ہو ان کے نزدیک چائے محض چائے ہے، ان سامنے آپ چائے کے فضائل ومناقب بیان کرکے چائے کی قدر کے ساتھ اپنی قدر بھی گھٹائیں گے۔

بعض گھرانے، بعض خاندان، بعض عورتیں، بعض لوگ، بعض ہوٹل اور بعض جگہیں چائے کے معاملے میں اچھی خاصی شہرت اور مقبولیت رکھتی ہیں جب کہ آپ اسی تعبیر کو الٹ بھی سکتے ہیں یعنی بعض لوگ، بعض گھرانے، بعض عورتیں، بعض ہوٹل چائے کا بیڑہ غرق کرنے میں اچھی خاصی شہرت بھی رکھتے ہیں۔

مجھے یاد ہے میں ایک دفعہ لکھیم پور کے ایک ایسے گاؤں میں چلاگیا جہاں چائے کی بے انتہا شہرت سنتا چلا آیا تھا وہاں بہت سی رشتہ داریاں بھی ہیں جہاں گیا یکساں ذائقہ کی بے لذت بلکہ بد لذت چائے سے سواگت ہوا، سواگت کیا ہوا بلکہ میرا سوا گت بن گیا، میں ٹھہرا سہارنپور میں رہنے والا جہاں چائے کا معیار بہت بڑھاہواہے یہاں دودھ میں چائے بنتی ہے اور وہاں پانی میں دودھ کی آمیزش ہوتی ہے، نمک اتنا کہ امتیاز کرنا مشکل کہ چینی زیادہ ہے یا نمک زیادہ ہے۔ چائے کی پتی کا معیار تو سبحان اللہ، خدا جانے کہاں سے خریدتے ہیں کہ چائے کا رنگ بالکل کالا، واللہ ہر گھونٹ پر توبہ تلا کی، سانس روک روک کر بڑی مشکل سے چائے ختم کی اور ادھر میزبان محترم یا میزبان محترمہ مزید چائے کی پیش کش بلکہ میری پیالی میں چائے انڈیلنے پر کمر کس۔ منور رانا کہتے ہیں:

شعر جیسا بھی ہو اس شہر میں پڑھ سکتے ہو
چائے جیسی بھی ہو آسام میں بک جاتی ہے

بہت سے لوگ چائے صرف مٹھاس کے لئے پیتے ہیں پیتے کیا ہیں انڈیلتے ہیں، بہت سے لوگ چائے کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں، میں نے بعض لوگوں کو چائے میں پکے ہوئے سادے چاول ڈال کر کھاتے دیکھا ہے، آپ مانیں نہ مانیں کچھ لوگ چائے پیتے وقت چپڑ چپڑ کی تو کچھ لوگ چائے پیتے وقت شپڑ شپڑ کی آواز اتنی بری طرح نکالتے ہیں کہ وہاں بیٹھے دیگر لوگوں کی طبیعت مکدر ہوجاتی ہے۔

چائے انسانوں کی طرح پینی چاہئے کتوں کی طرح کس نے پینی سکھائی ہے، میں نے ایک صاحب کو دیکھا کہ ایک کپ چائے ان کے سامنے آئی تو انھوں نے دما دم پارلے جی کے کئی بسکٹ پیالی میں ڈال لئے۔ اللہ کا کرنا ایسا کہ وہاں چمچ ندارد، اب فرمائش کی کہ چمچ لاؤ میں نے کہا کہ یہ بے ذوقی آپ کو اپنے گھر میں دکھانی چاہئے تھی یہاں مہمانی میں نہیں، اور اگر دکھانی ہی تھی تو پہلے ہی چمچ منگوا لیتے۔ اب ایک ہی شکل ہے کہ آپ اپنی انگلیوں کو چمچ کی شکل دے کر پیئں بلکہ کھائیں۔ پھر میں نے کہا کہ چائے میں کون سے بسکٹ ڈالے جاتے ہیں کون سے نہیں، مدرسہ والوں کو اب شاید یہ بھی سمجھانا اور پڑھانا پڑے گا۔ یقین جانیں ایسے مزاج کے لوگوں کے پاس بیٹھ کر چائے پینا بھی آزمائش سے کم نہیں ہے۔

چائے پلانے کا اچھا طریقہ یہ ہے کہ آپ کیتلی میں چائے اور کپ وپرچ رکھ دیجیے اور مہمان کو اختیار دے دیجیے تاکہ وہ اپنی ضرورت اور مرضی کے مطابق چائے پی سکے۔ زیادہ چائے پینے کی بالکل فرمائش نہ کریں کیونکہ ممکن ہے اس کی عادت زیادہ چائے پینے کی نہ ہو یا یہ بھی ممکن ہے کہ چائے اس کے ذوق اور مزاج کے موافق نہ ہو اور آپ جس چائے کو بہت عمدہ سمجھ رہے ہیں وہ اس کے معیار سے میل نہ کھاتی ہو۔

کبھی کبھی دیکھا گیا کہ چائے سب سے شروع میں لاکر رکھ دی گئی اور دیگر لوازمات آنے میں تاخیر ہوگئی، ایسی صورت میں چائے ٹھنڈی ہوجاتی ہے اور اچھا ذوق رکھنے والے ٹھنڈی چائے پینا نہیں چاہتے۔ اس لئے جو کچھ رکھنا ہے چائے سے پہلے رکھیں۔

صرف چائے دستر خوان پر نہ رکھیں کچھ نہ کچھ ساتھ میں ضرور رکھیں کیونکہ طبی نقطہ نظر سے صرف چائے نقصان دہ ہوتی ہے کچھ نہ کچھ ساتھ کھانے سے چائے کی سمیت کم ہوجاتی ہے۔

چائے آپسی پیار ومحبت بڑھانے کا خوبصورت ذریعہ ہے، قدیم زمانے میں جب چائے کا وجود نہ تھا لوگ شربت وغیرہ سے ضیافت کرتے تھے اب چائے ہی کی حکمرانی ہے:

آ ترے سنگ ذرا پینگ بڑھائی جائے
زندگی بیٹھ تجھے چائے پلائی جائے

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H