Article Image

مولانا اسلم شیخوپوری رحمه الله تعالی معمولی تاجر سے کروڑ پتی کیسے بنے؟

مولانا اسلم شیخوپوری رحمه الله تعالی معمولی تاجر سے کروڑ پتی کیسے بنے؟
مولانا اسلم شیخوپوری دونوں ٹانگوں سے معذور ایک مشہور عالم دین تھے۔ذیل میں ان کی تجارت کے متعلق چند باتیں عرض کی جاتی ہیں۔
تجارت عزت والا پیشہ ہے، تجارت نوکری چاکری سے بہت مختلف پیشہ ہے۔ نوکری چاہے جیسی بھی ہو، پروفیشنل ہو غیر پروفیشنل ہو، لاکھوں روپے ماہوار پر ہو یا کروڑوں روپے کی تنخواہ پر ہو ہر حالت میں نوکری کرنے والا اپنے مالک کا نوکر ہوتا ہے۔اور اسی کے رحم و کرم پر زندگی گزارتا ہے۔اور مالک کے اشارے پر چلتا ہے، نوکری کے ٹائم میں وہ غلام سے کم نہیں ہوتا، جس کا اندازہ ہم سب کو ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر علماء کرام کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا کہ اے علماء کی جماعت تجارت اختیار کرو عام مسلمانوں کے کندھوں پر بوجھ نہ بنو ۔
تجارت کے ذریعے انسان خود کا بھی گھر چلاتاہے اور دوسروں کا بھی۔
میدان تجارت میں علماء کرام
با آسانی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
مولانا اسلم شیخوپوری کے خیالات بڑے دلچسپ تھے۔ آپ فرماتے تھے: ’’دین کا کام پوری آزادی کے ساتھ اور بغیر کسی کی محتاجی کے کرنے کی صورت یہی ہے کہ انسان کمائی کا کوئی پیشہ اختیار کرے۔‘‘ آپ رحمه الله تعالی نے یہ بھی فرمایا تھا: ’’میں یہ محنت، مشقت اس لئے کرتا ہوں، تاکہ قیامت کے دن جب میرے بچے اٹھیں تو اللہ کہیں کہ یہ اپنے ہاتھوں سے محنت کرنے والے مزدور کے بچے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی سمجھتے تھے ایک عالم دین کو عام لوگوں کی نظر میں بے وقعت نہیں ہونا چاہیے۔
تجارت کے کارزار میں اترے تو بہت تھوڑے سرمائے اور کم سطح سے آغاز کیا۔ سب سے پہلے کتابیں فروخت کرنا شروع کیں۔ کتابوں کی منتقلی اور گاہک تک پہنچانا اپنی جسمانی معذوری کے باعث مشکل ہوتا۔ لہذا اس کام کو جاری نہ رکھ پائے۔ پھر بطورمزدور ہوٹلوں کو مٹر نکال کر اور پیک کر کے فراہم کرنا شروع کیا۔ آپ کے رفیق کار قاری عبد المنان کہتے ہیں۔ کہ مولانا شہید اور ان کی اہلیہ فجر سے پہلے پیکنگ مکمل کر دیتے۔ پھر یہ تھیلیاں قاری عبد المنان اور ان کے بھائی کے ذریعے نماز فجر سے پہلے ہوٹلوں کو سپلائی کی جاتیں۔ اگلے مرحلے کے طور پر تسبیح، رومال اور مسواک وغیرہ کی فروخت شروع کی۔ اس سے متعلق مولانا کا نظریہ یہ تھا کہ ایسا کاروبار کیا جائے جس میں خدمت اور عبادت کا پہلو بھی ہو۔ انہوں نے اپنے تمام پروڈکس کو حلیمی پروڈکس کا نام دیا تھا’’حلیمی مسواک‘‘ اس سے متعلق عجیب خواہش تھی کہ اللہ کرے میری یہ مسواک اتنی مقبول اور عام ہو جائے کہ میں حرم شریف کے گیٹ سے جا کر اپنی مسواک خریدوں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش پوری کی۔ ایک سفرِ حرمین میں اپنی مسواک کو حرم شریف میں فروخت ہوتے دیکھا اور اسے خریدا۔
حضرت مولانا کا ’ شربت امراض قلب‘‘ بھی خدمت خلق کا ہی پس منظر لیے ہوئے ہے۔ آپ کی مسجد کے ایک نمازی دل کے مرض میں مبتلا تھے۔ وہ ہر روز بڑی مشکل سے سیڑھیاں چڑھ کر صحن تک اور صحن سے ہال تک پہنچتے۔ مگر چند دنوں میں آپ نے دیکھا کہ وہ صحت مند نظر آ رہے ہیں۔ ان سے وہ نسخہ معلوم کیا جس کی وجہ سے انہیں افاقہ ہوا تھا۔ متعلقہ حکیم صاحب سے رابطہ کرنے پر معلوم ہو اکہ نسخہ ایک اور صاحب کے پاس ہے۔ بالآخر دس ہزار روپے میں انہوں نے وہ نسخہ عنایت کر دیا۔ مولانا نے نہایت خالص اشیا سے دوائی تیار کروائی۔ بہت کارگر ثابت ہوئی۔ بہت سارے اشخاص کے دل کابند وال اسی سے کھلا۔
آپ کی مصنوعات میں ’’حلیمی شہد‘‘ غیر معمولی طور پر مقبول ہوا۔ صرف دو کَین شہد سے تجارت کا آغاز کیا۔ آپ رحمہ اللہ کی شانِ محنت ملاحظہ ہوکہ آپ کراچی(پاکستان) کے علاقے شیر شاہ جا کر خود بوتلیں خرید کر لاتے۔ پھر جمعرات شام سے جمعہ شام تک بوتلیں دھو دھو کر خشک بھی کرتے اور پیک بھی۔ صاف بوتلیں اس لیے نہ خریدتے کہ وہ مہنگی تھیں۔ اس طرح قیمت بہت زیادہ بڑھ جانے کا اندیشہ تھا۔ جس سے ظاہر ہے گاہک کا نقصان ہوتا۔ اپنے کاروبار میں طلبہ کو بھی شامل کر لیتے۔ انہیں کہتے: اپنے عزیز، رشتہ داروں کے لیے لے جائیں، جو نفع ہو وہ آپ کا۔ شہد کا یہ کاروبار دو کین سے شروع ہو کر دو ٹرک تک پہنچا، ہنوز بھی جاری ہے۔
ایک منجن بنا کر فروخت کرنا شروع کیا۔ اس کا نسخہ بہت مہنگا تھا۔ بہت نایاب چیزیں ڈالی جاتی تھیں۔ لیکن پھر بھی کافی پیسے خرچ کرکے اس نسخہ کو خریدا کہتے کہ ہم معیار پر سمجھوتہ ہرگز نہیں کر سکتے۔ یہ بھی یاد رکھو! ہم چاہتے ہیں ہماری وجہ سے کسی کی صحت کا نقصان نہ ہو۔
علم اور تجارت ساتھ ساتھ
ایک ’’سنت گفٹ‘‘ شروع کیا۔ اس میں شہد کی بوتل، مسواک، عطر، تسبیح، سرمہ، بادام والی کھجور اور چھوٹا رومال وغیرہ شامل تھا۔ یہ بھی بہت مقبول ہوا۔آپ نے کئی ایک کاروبار کیے۔ مقامی سطح سے ایکسپورٹ، امپورٹ تک پہنچے۔
دلچسپی کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے ماتحت میں کام کرنے والوں کو ڈانٹ ڈپٹ اور گالیاں نہیں دیتے تھے اور نا انہیں سخت سست کہتے تھے، بلکہ ان کے ساتھ بہت پیار سے پیش آتے تھے، کبھی بھی انہوں نے ٹیکس کی چوری نہیں بلکہ بر وقت ہی ٹیکس ادا کر دیتے تھے۔
علماء کرام کو چاہیے کہ وہ بزنس کے میدان میں آئیں۔ ان شاءاللہ اگر علماء کرام نے تجارت کے میدان میں قدم رکھا تو مسلم اور غیر مسلم تاجروں کو ان سے صحابہ کرام کے تجارت کے طریقے کو سیکھنے کا موقع ملے گا۔اور برکت بھی خوب ہو گی۔
عامۃ الناس اور مساجد کے ذمہ داروں سے خصوصی اپیل کرتا ہوں کہ اپنی مساجد کے ائمہ اور خدام کی قدر کریں۔اور انہیں قرض حسنہ دے کر حلال کاروبار کروائیں۔تاکہ معاشرے کے معزز لوگ بھی خود کفیل ہو سکیں۔اور ان کی عزت نفس بھی مجروح نا ہو۔
اگر تحریر اچھی لگے تو کاپی کرکے آگے ضرور فارورڈ کیجئے گا ۔
از بندہ نا چیز شاہد محمود

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H