Article Image

ساحل فرات پر

ساحل فرات پر
قسط نمبر 3
(سرزمین عراق وشام اور لبنان کی داستان سفر۔ انبیاء کا مسکن تہذیبوں کا مدفن اور شہداء کا بانکپن رکھنے والی تاریخ کے سینے کو عنوانات سے بھرنے والے سرزمین کی ہنساتی رولاتی داستان)

تحریر محمد رضوان عزیز صاحب
مدیر دارالعلوم ختم نبوت عارف والا
رات کا منظر دل کش بھی تھا اور شہر میں بھی صحراء کی بوباس محسوس ہورہی تھی نہ جانے کیوں یہ ہمارے پڑوسی مذھب کے ملنگ جس ملک کے بھی ہوں صفائ ستھرائی کو مکروہ ہی سمجھتے ہیں مغرب کے بعد روضہ سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے سامنے وادی السلام نامی قبرستان کا رخ کیا جس میں سینکڑوں فقہاء ومحدثین آرام فرما تھے اور سب سے بڑھ کر اس میں دو عظیم الشان پیغمبر حضرت ھود علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام کی قبور مبارکہ بھی تھیں لیکن تعمیراتی کام کے جاری ہونے اور رات کا وقت ہونے کی وجہ سے کماحقہ زیارت نہ ہوسکی
وہاں سے بائیں ہاتھ بڑے قبرستان وادی السلام کا رخ کیا جس کی تقدیس مذھب شیعہ میں جنت البقیع کے برابر یا بڑھ کر ہے ان کے نزدیک دنیا میں کہیں بھی شیعہ فوت ہو اس کی روح اس قبرستان میں آتی ہے قبروں پر پختہ اور بڑی تعمیرات کے باعث ان میں چلنا مشکل ہوگیا تھا ساتھ گائیڈ بتلا رہا تھا کہ داعش کے خلاف جنگ میں بھی یہ قبریں مورچوں کا کردار ادا کرتی رہی ہیں جس سے اکثر قبور کی حالت ناگفتہ بہ تھی
جگہ جگہ روشنی کا انتظام کیا گیا تھا مگر بدبو ایسی جیسے ہم کسی ایسے لاری اڈا میں آگئے ہوں جہاں ہر گاڑی کے پہیے کے ساتھ لوگ پوشیدہ علم الابدان کا اظہار کررہے ہوتے ہیں
صحراء کی تازہ ہوا نے اگرچہ اس بدبو کی تلافی کر رکھی تھی مگر جو سچ ہے وہ یہی کہ عراق اور عراقیوں میں صفائ ستھرائی کا انتظام نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے
یہ شہر چونکہ بابل وننیوا کے پڑوس میں بسایا گیا تھا جو ابتداء تو ایک فوجی چھاونی ہی تھا جس نے رفتہ رفتہ شہر کی شکل اختیار کر لی اس کلی کے گلاب بننے تک اور پھر معرکہ خیر وشر کی آماجگاہ بننے تک ایک انتہائ دل دوز اور دل چسپ داستان ہے باب مدینہ العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس شہر کو جس طرح علم و حکمت سے بھرا تھا تعمیر بغداد سے قبل اس کو علماء دارالفضل والفضلاء کہا کرتے تھے صاحب قاموس اسے ۔قبۃ الاسلام ودارھجرۃ المسلمین لکھتے ہیں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں
کام اغلب قضایاہ بالکوفۃ
حضرت علی کرم اللہ کے زیادہ فیصلے اسی شہر کوفہ میں ہوئے ہیں
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں
وانما ظھر علم علی وفقھہ بحسب مقامہ فیھا مدت خلافتہ
(منھاج السنہ 4/137)
بلا شبہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا علم اور اپ کی فقہ کوفہ میں اس قدر ظاہر ہوئی جتنا کہ اپ نے اپنی مدت خلافت میں کوفہ میں قیام فرمایا
فقہائے کوفہ میں اس کا خاص اہتمام تھا کہ جب کسی صحابی کی وہاں آمد ہوتی تو اس کے پاس آ کر جمع ہو جاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کے سننے کی خواہش ظاہر کرتے اس لیے سنن ابن ماجہ میں امام شعبی سے روایت ہے
لما قدم عدی ابن حاتم الکوفہ اتیناہ فی نفر من فقہائے اہل الکوفۃ فقلنا لہ حدثنا ما سمت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ جب کوفہ تشریف لائے تو ہم فقہاء کی ایک جماعت کے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کرنے لگے کہ اپ نے جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ہم سے بھی بیان فرمائیے
کوفہ میں کتنے صحابہ تشریف لائے؟
امام ابو بشر دولابی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کوفہ میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ہزار 50 صحابہ تشریف لائے جن میں 24 وہ بزرگ صحابہ تھے جو جنگ بدر میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک جنگ تھے یہ سب کوفہ میں اکر ہوئےفروکش ہوئے(الکنی والسماء لابی بشر دولابی رحمۃ اللہ)

جاری ہے



-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H