Article Image

کامیابی و نا‌کامی


اسلامی قانون ایک مستشرق کی نظر میں

مسلمانوں کی شاندار کامیابی ان کے دین و ایمان کا پرتو تھی، وہ صرف لڑائی کے میدانوں میں ہی فتح مند نہ ہوئے ؛ بلکہ انہوں نے زندگی کو اس متنوع صورتوں میں مسخر کیا اور ان کا اصل کارنامہ ہی یہ تہا کہ انہوں نے تمام حقائق حیات کو اس وحدت میں جوڑ دیا جس کا نام تمدن ہے، اس اتحاد و انضمام کی اصل کار فرما قدرت اسلام تھی، یہ اسلام ہی تھا جس کی بدولت متعدد اور متنوع عوامل ایک جامع نظام میں جُڑ گڑے اور جس نے ان کو قدرت حیات بخشی، ہرشے کو اسلامی ہیئت میں متشکل کیا گیا اور اسلامی طرز اجتماعی کے اختیار سے سوسائٹی میں یک رنگی و ہم آہنگی پیدا کردی، پھر اصل حقیقت یہ ہے کہ اس سارے عمل میں قوت متحدہ کی حیثیت اسلامی قانون کو حاصل رہی، اس قانون نے نماز سے لیکر حقوق تک، زندگی کے ہر شعبے و جزئیے کی صورت گری کی، اسی قانون نے اسلامی سوسائٹی میں قؔرطبہ لے کر مؔلتان تک یکسانگی اور ایک رنگی پیدا کی ۔
اس نے فرد کی زندگی کو وحدت مرکزیت اور تنظیم کے زیور سے آراستہ کیا ؛ کیوں کہ اس کی وجہ سے ہر عمل ایک مربوط الٰہی نظام کا جزو بن گیا اور کوئی افراتفری و انتشار باقی نہ رہا اور اس نے زمانے کو مسخر کرکے تاریخی تسلسل کو قائم کردیا، اب حکمرانوں اور خاندانوں کی تبدیلی سے مسلم معاشرہ اس لیے متاثر نہیں ہوتا کیونکہ اسلامی قانون کی وجہ سے ہر دور زمانۂ ماقبل سے مربوط ہے اور افراد خواہ کوئی بھی ہوں ہر حکمراں کا مقصد اور اس کی اصل ذمہ داری اسی ایک قانون کو نافذ اور اسی ایک سماج کو برپا کرنا ہے، جو خدا نے انسانوں کے لیے مقرر کیا ہے۔


مرتب: مولانا محمد رضوان القاسمیؒ

( چراغ راہ، صفحہ: 400، طبع: دار العلوم سبیل السلام، حیدرآباد)


-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H