📜 شذرات الریان
🎯 دینی خدمات کی حیثیت ذاتی کام کی طرح ہے، قومی کام کی طرح نہیں!
حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ نے دین کی خدمت کو ایک "قومی کام" کی حیثیت سے نہیں شروع کیا تھا، جس کا بار اور جس کی ذمہ داری تنہا قوم پر ہوتی بلکہ اپنا کام سمجھ کر شروع کیا تھا جس میں ان کو اپنی کسی چیز کے لگا دینے میں دریغ نہیں تھا، ان کے نزدیک دین کے کام کی حقیقت یہ تھی کہ آدمی بالکل اپنے ذاتی کام کہ طرح اس میں اپنا عزیز وقت اور محبوب مال خرچ کرے، وہ اس تقسیم کے قائل نہیں تھے کہ یہ اپنا ہے اور یہ قومی !
ایک صاحب نے ایک مرتبہ کچھ رقم یہ کہہ کر پیش کی کہ آپ بالکل اپنے کام میں لائیں، مولانا نے فرمایا "حضرت! اگر ہم نے اللہ کے کام کو اپنا کام نہ سمجھا تو ہم اپنے آپ کب ہوئے۔"
یہ کہہ کر آنکھوں میں آنسو بھر لائے اور فرمایا کہ:
آہ! ہم نے حضور ﷺ کی قدر نہ کی۔
بس یہی مولانا کا اصول تھا، انہوں نے میوات کے دینی کاموں میں سب سب پہلے اپنا سرمایہ اور اپنا روپیہ (جو آبائی جائیداد کی آمدنی ہا ہدایا کی شکل میں آتا تھا) پھر لوگوں کی امداد کو قبول کیا۔
(مجدد تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ اور دینی دعوت ، ص : 67)
🌏 دارالریان اکادمی آن لائن
(علوم نبوت کی فکری درســگاہ)
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H