Article Image

ساحل فرات پر

ساحل فرات پر
قسط نمبر2

(سرزمین عراق وشام اور لبنان کی داستان سفر۔ انبیاء کا مسکن تہذیبوں کا مدفن اور شہداء کا بانکپن رکھنے والی تاریخ کے سینے کو عنوانات سے بھرنے والے سرزمین کی ہنساتی رولاتی داستان)

تحریر : محمد رضوان عزیز صاحب مدیر دارالعلوم ختم نبوت عارف والا

بالکل نئی شیور لیٹ گاڑیاں ہمیں ایئرپورٹ سے وصول کر کے نجف کے اندرونی بازار کی طرف چل دیں ہوٹل میں پہنچنے تک ہمیں کہیں بھی یہ گمان تک نہ تھا کہ اج ہم امیر المومنین سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کے پڑوس میں قیام پذیر ہوں گے حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ جن کی تعریف اور کوفہ میں دی گئی قربانیاں عنقریب انشاءاللہ تفصیل سے بیان ہوں گی
ہمارا شعبان کا اخری دن ان کے پڑوس میں تھا اور رمضان کا چاند ہم نے یہیں دیکھا
ہوٹل پہنچنے کے بعد ہم نے سامان رکھا تھکاوٹ کافی ہو چکی تھی تھوڑی دیر کے لیے ارام کیا آرام کرنے کے بعد نماز ظہر کی ادائیگی کے لیے ہوٹل سے باہر نکلے اور سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر سے ملحق مسجد میں نماز ادا کی عصر اور مغرب کے درمیان حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کے مزار اقدس پر فاتحہ پڑی اور اس سے ملحقہ امارات اور تاریخی نوادرات کی سیاحت کی مغرب کے بعد چونکہ رمضان المبارک شروع ہو رہا تھا ارد گرد کا ماحول بھی استقبال رمضان کا سا تھا لیکن افسوس کسی جگہ پر بھی باجماعت نماز تراویح کا اہتمام نہیں تھا بلکہ مختلف جگہوں پر قران پاک کی تلاوت کی محفلیں سجانے کا نظم کیا گیا تھا عراقی حکومت کے مقرر کردہ ائمہ اور قراء اپنی تیاریوں میں مشغول تھے کہ جنہیں محفل کی صورت میں لوگوں کو قران تو سنانا تھا لیکن تراویح پڑھانے کا یا زبانی قران سنانے کا کہیں بھی کوئی نظم نہیں تھا ہمارے شریک سفر حضرت مولانا محمد صھیب احمد صاحب حفظہ اللہ جو کہ تکمیل حفظ سے لے کر اب تک رمضان المبارک میں قران سنانے کے اعتبار سے صاحب ترتیب تھے ان کا اصرار تھا کہ باقاعدہ قران پاک کو سنانے کا اہتمام کیا جائے اور کسی نہ کسی جگہ نماز تراویح ادا کی جائے ہم نے وہیں پر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مزار کے قریب ہی قران پاک سنانے کا اہتمام کیا ہمارے استاد محترم حضرت شیخ الحدیث مفتی محمد طاہر مسعود صاحب حفظہ اللہ سامع بنے اور ابتدائی 10 تراویح میں مولانا صاحب نے قران پاک سنایا اور اخری دس تراویح استاد محترم مفتی محمد طاہر مسعود صاحب حفظ اللہ نے پڑھائی یہ بھی تاریخ کا ایک عجیب مرحلہ تھا کہ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کو صحابہ کی طرز پر نماز تراویح میں قران سنانے کی سعادت ہمیں مل رہی تھی اب معلوم نہیں کب سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی عشق قرآن والی روح ایسے قران پاک کی مجلس کو ڈھونڈ رہی ہو کہ جس میں ویسے ہی قران پڑھا جاتا ہو جیسے صحابہ اور سلف صالحین کے دور میں پڑھا جاتا تھا بہرکیف رات گزری سحری کے وقت ہوٹلوں کے لیے دوڑ دھوپ شروع ہوئی اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مزار کے پڑوسی میں ایک پاکستانی ہوٹل تھا جس میں سحری کا اہتمام کیا گیا تھا ہم سحری کے وقت وہاں پر پہنچے اور بڑی جلدی میں سحری کے تمام مناسک ادا کیے اور یوں استاد محترم سمیت واپس ہوٹل میں پہنچے نماز فجر ادا کی اور ارام کے لیے سو گئے کہ اس کے بعد ہمیں اج کا دن کوفہ کی سیاحت پر لگانا تھا اس کی تاریخی مقامات کو دیکھنا اور ان سے عبرت اور سبق حاصل کرنا یہ ہماری اج کی مصروفیات تھی
کوفہ کی تاریخ۔
صحابہ کرام کے تعمیر کردہ شہروں میں کوفہ اپنی شہرت وافادیت اور پیش آمدہ حادثات کے اعتبار سے سب سے معروف ہے کوفہ شہر کی بنیاد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حکم سے 17ہجری بمطابق 638عیسوی میں رکھی گئی تب حضرت عمر کی خلافت کا تیسرا سال تھا
تعمیر کوفہ کی وجہ۔
کوفہ کو تعمیر کرنے کی کئ ایک وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ تھی کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اسلامی لشکریوں نے 15 ہجری بمطابق 636 عیسوی کو قادسیہ کی جنگ لڑی جنگ کے اختتام کے بعد جب مسلم عرب لشکروں کو فتح حاصل ہوئی تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے لشکر کو جلولاء نامی مقام پر حضرت عمر کے حکم سے ٹھہرا لیا جو کہ نہر دیالہ کے کنارے اباد تھا اور اس کا ساسانی دور میں فارسی نام سیروان دریا تھا
اسلامی افواج کو وہاں روکنے کا مقصد مفتوحہ علاقوں میں نظم و نسق کو اور انتظامی معاملات کو درست کرنا تھا اور اسلامی لشکر کا ایک بڑا حصہ مدائن کے دارالحکومت میں قیام پذیر تھا عرب چونکہ کھلی فضا اور صحرائی زندگی کے عادی تھے جس کے اندر کچھ گرمی کی تپش اور ہوا کی شفافیت ان کی صحت کے لیے بہت مفید ہوتی تھی لیکن یہاں کی حبس زدگی اور ابادی کی کثرت باغات اور دریاؤں کی وجہ سے ان کے لیے یہ فضا نامناسب ثابت ہوئی چراگاہوں کی بھی اشد کمی تھی لشکر کی ضروریات کے حوالے سے اور ان کے اندر حبس اور آبادی کی کثرت کی وجہ سے باہم شکوے اور شکایات بڑھ رہی تھیں اس بات کو سامنے رکھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کی رپورٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ایسا شہر بسانے کا حکم دیا جو صحرائی زندگی کے بالکل قریب ہو اور عربوں کو اس علاقے میں رہتے ہوئے طبی طور پر کچھ مشکل نہ ہو تو عراق کی سرزمین پہ کوفے کا علاقہ جو کہ صحابہ کی تعمیر سے پہلے یہ پورا علاقہ سورستان کا علاقہ کہلواتا تھا صحابہ کی سروے ٹیم نے اس علاقے کو چنا کہ یہی وہ جگہ ہے جو عرب مجاہدین کے مزاج کے موافق ہے
بعض سیرت نگاروں اور مورخین کے بقول ایسی جگہ کے انتخاب کا مشورہ حضرت علی کرم اللہ وجہ نے دیا تھا اور انہوں نے اس سلسلہ میں اپنے دو قریبی ساتھیوں حضرت سلیمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ سے مشاورت لی تھی انہوں نے دو تین جگہوں کو دیکھا اور طویل غور و فکر کے بعد تقریبا دو سال کے عرصے میں ہرپہلو اور ہر سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد اسلامی لشکر کے قیام اور اسلامی سپاہ کی ایک فوجی چھاونی کے طور پر سورستان کے اس علاقے کو ایک جدید شہر بنانے کے لیے چنا کہ جس میں اسلامی افواج جو کہ صحرائی زندگی کے عادی ہیں وہ اس جگہ رہ کر پورے عراق کا نظم و نسق بھی کنٹرول کر سکتی ہیں اور ان کی صحت کے اعتبار سے بھی یہ فضا ان کے لیے موضوع تر ہے
(جاری ہے )

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H