سنوسنو!!
حلال گوشت
(ناصرالدین مظاہری)
اہل اللہ سے لاتعلقی،شریعت سے عدم دلچسی اور حلال وحرام کی تمیز ختم ہوتی جارہی ہے، اب تو صبح سے شام تک کون کیا کھلا رہاہے ہم کو بالکل بھی پوچھنے کی توفیق اور ہمت نہیں ہوتی ہے۔ یہی حال ہدایا کا ہے، بس ہدیہ ملنا چاہیے کبھی نہیں پوچھتے کہ تم ہدیہ کیوں دے رہے ہو، تمہاری انکم اور آمدنی کیسی ہے، کاروبار کی نوعیت کیا ہے، یا جو دعوت تم نے کی ہے اس کا گوشت کہاں سے آیا ہے، بازار میں ہر قسم کا سامان مل رہا ہے، جائز بھی ناجائز بھی، اب تو مسلم مذبح خانے بہت کم بچے ہیں سارے ہی مذبح خانے کفار کے ہیں وہیں سے اسلامی ملکوں میں گوشت جارہاہے وہیں سے اندرون ملک گوشت سپلائی ہورہا ہے، ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں کس کی ہیں، ان کے مالکان کون ہیں، جانور کو ذبح کون کررہا ہے، سرکاری منظور شدہ دکانیں بھی اب غیرمسلموں کے نام پر منظور ہونے لگی ہیں بس اس کا کرتا دھرتا یعنی گوشت بیچنے والا مسلمان ہے۔
اتنے خراب اورمسموم حالات میں جب پورا عالم کفر مسلمانوں کو حرام کھلانے پر تلا اور پلا ہوا ہے سوچیں ہمارے یہ برادران وطن کیونکر ہمارے لئے مخلص ہوسکتے ہیں، اب تو کافر حکومتوں نے پابندیوں پر پابندیاں لگانے کا مزاج بنالیا ہے اور جھٹکے والے گوشت کو بازار میں اتاردیا گیا ہے بلکہ حلال ذبیحہ پر پابندی لگائے جانے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے ۔ بلکہ حلال سرٹیفکیٹ دینے والے اداروں اور تنظیموں پر بھی شکنجہ کسا جارہاہے اور استعمال کی جانے والی تمام چیزوں پرحلال کی وضاحت اور صرحت کرنے پر باقاعدہ پابندی لگادی گئی ہے۔
خوب یاد رکھئے! حلال غذا کا تعلق ایمانیات سے ہے، حرام کا تعلق شیطانیات سے ہے، حلال غذا اور حلال گوشت سے ایمان زندہ رہتا ہے اور حرام غذا اور حرام ذبیحہ کے کھانے سے ایمان، عبادات سب کچھ برباد ہوجاتاہے۔
گوشت کھانوں کا سردار ہے، گوشت جسم کی ضرورت ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ من ترک اللحم أربعین یومًا ساء خلقہ ومن داوم علیہ أربعین یومًا قسا قلبہ․ (فیض القدیر)
”جس نے چالیس دن تک گوشت کھانا چھوڑدیا اس کے اخلاق برے ہوجاتے ہیں اور جو چالیس دن مواظبت کے ساتھ کھائے اس کا دل سخت ہوجاتا ہے۔
حضرت علی کا یہ قول تو بہت بعد میں میرے سامنے آیا تقریبا دس بارہ سال پہلے رضا لائبریری رام پور میں مخطوطات کے تحفظ کے عنوان پر ایک سہ روزہ سرکاری پروگرام ہوا، مظاہرعلوم وقف سے مجھے اور مولانا محمد سلمان (کتب خانہ والے) شریک ہوئے، حالانکہ اس سے پہلے جب بھی جانا ہوا ہر موقع پر گوشت موجود رہا لیکن اس بار گوشت کانام ونشان نہیں تھا، صبح ناشتہ سے ہی سبزیوں سے واسطہ اور سابقہ و رابطہ ہوتا اور ظہرانہ وعشائیہ ہر کھانے میں سبزیاں ہی سبزیاں ہوتیں، ہم سہارنپوری لوگ بھلا سبزی خوری کے کہاں عادی ہیں اس لئے تین دن میں برا حال ہوگیا، تیسرے دن رات کو شاہ عبدالسلام صاحب جو رضا لائبریری کے ذمہ دار تھے وہ ہمارے کمرے میں تشریف لائے ، بڑے سلجھے ہوئے، سنجیدہ اور صاحب مطالعہ و تجربہ انسان تھے، پوچھنے لگے یہاں قیام کے دوران کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی؟ میں نے برجستہ کہا کہ جناب آنے کے بعد سے ہی ہماری صبح کی شروعات سبزیوں سے ہوتی ہے اور اختتام بھی سبزیوں پر ہوتا ہے، تین دن سے گوشت ہمارے حلق سے نہیں اترا ہے، حالانکہ پہلے بھی ہمیشہ گوشت کھلایا جاتا رہا ہے لیکن اس بار آپ کے دور میں یہ نوبت آئی ہے، گوشت سے محرومی کی وجہ سے ہمیں تو ہمارے ایمان کمزور محسوس ہونے لگے ہیں، شاہ عبدالسلام نے مختلف توجیہات اور توضیحات کرکے سمجھانے اور منانے کی بے سود کوشش کی۔
خیر یہ تو خیر ایک پرلطف واقعہ ہے اس لئے لکھ دیا، کہنا یہ ہے کہ مسلمان اور گوشت یا گوشت اور مسلمان یہ دونوں لازم ملزوم ہیں، آپ حلال گوشت کھائیں اور خوب کھائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت بہت پسند تھا، آپ کا فرض ہے کہ آپ اس" اندھیر نگری چوپٹ راج" میں کسی پر بھی آنکھ بند کرکے یقین نہ کریں ، خوب تحقیق کرلیں۔ ورنہ اللہ تعالی کی عدالت میں جواب دہی آپ کو کرنی ہے۔
(17/محرم الحرام 1446ھ)
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H