Article Image

ساحل فرات پر

ساحل فرات پر
قسط نمبر 1

(سرزمین عراق وشام اور لبنان کی داستان سفر۔ انبیاء کا مسکن تہذیبوں کا مدفن اور شہداء کا بانکپن رکھنے والی تاریخ کے سینے کو عنوانات سے بھرنے والے سرزمین کی ہنساتی رولاتی داستان)

تحریر : محمد رضوان عزیز صاحب مدیر دارالعلوم ختم نبوت عارف والا

" اس دل چسپ اور تاریخی سفر کو بظاہر تو ایک سال سے زائد عرصہ ہو گیا لیکن اس کے دل نشین مناظر آج بھی قلب وروح کی تازگی کا سبب ہیں سفر نامہ قلمبند کرنے میں سب سے زیادہ رکاوٹ راقم کی عدیم الفرصتی تھی دیگر کئ ایک تصانیف کی تکمیل تدریسی و تبلیغی مصروفیات اور گھریلو زندگی کی الجھنوں نے مصروف کیے رکھا البتہ بعض احباب کا مسلسل اصرار گاہے بگاہے اس غفلت سے بیدار کرتا رہا تو سوچا قسط وار لکھنا شروع کرتے ہیں اب اگرچہ کچھ باتیں حافظہ سے مٹ چکی ہوں گی لیکن جتنا یاد رہ گیا اتنا تو محفوظ کردیا جائے شاید کسی راہ نورد شوق کی رہنمائ ہوسکے
چونکہ عراق میں ہمارے سات دن گزرے شام میں پانچ یا چھ دن اور لبنان وبعلبک میں دو دن اس لیے تینوں ملکوں کا سفر نامہ یکجا لکھا جارہا ہے لیکن ایک ہی نام جو تینوں ملکوں کا احاطہ کرسکے وہ سوائے دریائے فرات کے مناسب نہ تھا کہ جس کے کنارے قبل از اسلام سے بعد از اسلام تک بیسیوں تہذیبوں کا گزر ہوا بہت سے افلاک رزق خاک ہوئے امامتوں پر قیامتیں اسی کے کنارے برپا ہوئیں سمندر اس کے کنارے پیاسے کھڑے کاتب تقدیر کے امر کن فیکون کا منظر دیکھتے رہے جبال علم کے پرچم یہاں لہرائے تو جھال کی دھماچوکڑی بھی اسی کے کنارے سجتی رہی شہداء کے فدائیانہ بانکپن اور منافقین کے خطوط و قلم کا عینی گواہ یہ ساحل فرات اس لائق ہے کہ اسے دیکھا جائے اس کے ذرے ذرے سے اٹھتی انا الحق کی صداء کو سنا جائے شورشوں کے چلمن سے لگے ان غداران ملت کو جانا جائے جن کی تحریروں نے تصویروں کا رنگ بدل دیا بابل وننیوا سے نار نمرود تک
بغداد سے سامراء کے غار تک کیا کچھ ہے جو یہاں نھیں
یہ سفر نامہ اپنے حال کو ماضی کا تعارف کروانے کی ایک کوشش ہے معلوم نھیں اس سرزمین کا تعارف کروانے میں کس حد تک کامیابی ہوتی ہے جس زمین کو تعارف دینے والے خاک وخون میں تڑپا دیے گئے

معراج ہوا پیمائی کا طیارہ ائیر پورٹ پر موجود تھا ہمیں کچھ اس لیے بھی جلدی تھی کہ کل سے رمضان المبارک کا آغاز ہورہا تھا اور ہمارا پہلا روزہ اسی کوفہ سے شروع ہورہا تھا جس نے خاندان نبوت کو بھوک پیاس کی حالت میں امت کے نہ بھرنے والے زخم کا عنوان بنا دیا تھا
طہران سے نجف اشرف کی یہ پرواز جو بظاہر تو تاریخ کے چند طلباء کو اٹھا کر لیجا رہی تھی درحقیقت یہ زمانے کی کئ صدیاں قبل کی الٹی زقند تھی کہ جس میں مسافر کبھی نار نمرود میں مصروف ذکر حق ابراھیم کو دیکھتا ہے اور کبھی بابل وننیوا کی اشوری تہذیب کے ساتھ ہاروت وماروت کے بے جوڑ پیوند کو ۔کبھی میدان کربلا میں یزیدی لشکر کے سرکش گھوڑے کی ٹاپ سنتا ہے اور کہیں شبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آہ سحرگاہی کو ۔
سو ہم ہزار جذبات محبت کے پھوٹتے جوار بھاٹے لیے نجف کے ائیر پورٹ پر اترے تو دھوپ کی تمازت میں کافی حد تک اضافہ ہوچکا ہے چند سال قبل امریکی عفریت کے استعمال میں رہنے والا یہ ائیر پورٹ بنیادی سہولتوں سے بھی محروم تھا مسلسل حالت جنگ ہی اس کی بے رونقی کا سبب نھیں تھی کچھ مقامی حضرات کی بے ذوقی بھی کار فرما تھی امیگریشن کے صبر آزما مراحل جن میں بار بار نیٹ کا ڈسکنٹکٹ ہونا پھر ایک سوفٹ ویئر کے ماہر کا آکر کمپیوٹر کے کی بورڈ اور کاؤنٹر پر موجود شی بورڈ سے آنکھ مچولی کرنا عربی میں دل پشوری کرتے ہوئے ٹورسٹ کی موجودگی کو یکسر نظر انداز کردینا بظاہر اے گلاں چنگیاں نھیں
بہرحال ائیر پورٹ سے باہر نکلے تو میلی وردیوں جنگ زدہ روسی اور امریکی پرانے اسلحہ سے لیس فورسزز کے درمیان سے کار پارکنگ میں پہنچے اور ہمارے گائیڈ جناب بابر کاظمی صاحب نے کاریں بک کروائ اور ہم جانی پہنچانی بستی کے انجان مسافر اگلی منزل کی طرف چل دیے
(جاری ہے)

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H