Article Image

نعمتِ غیر مترقبہ



ماں کی محبت

ماں بچے کو گود میں لیے بیٹھی ہے، باپ حقہ پی رہا ہے اور دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے، بچہ آنکہیں کھولے پڑا ہے، انگوٹھا چوس رہا ہے، ماں محبت بھری نگاہوں سے اس کے منہ کو تک رہی ہے اور پیار سے یہ کہتی ہے: " میری جان! وہ دن کب آئے گا کہ میٹھی میٹھی باتیں کرے گا ؟ بڑا ہوگا سہرا بندھے گا! دولہا بنے گا! دولہن بیاہ لائے گا! ہم بڈھے ہوں گے! تو کمائے گا! آپ کھائے گا! ہمیں کھلائے گا! بچہ مسکراتا ہے تو ماں کا دل باغ باغ ہوجاتا ہے، جب ننہا سا ہونٹ نکال رونی صورت بناتا ہے تو یہ بے چین ہوجاتی ہے، سامنے پنگورا ( جھولا ) لٹک رہا ہے، سُلانا ہوتا ہے تو اس میں لٹا دیتی ہے، رات کو اپنے ساتھ سلاتی ہے، جاگ اٹھتا ہے تو جھٹ چونک پڑتی ہے، کچی نیند میں رونے لگتا ہے تو آدھی آدھی رات تک یہ بیچاری مامتا کی ماری لیے بیٹھے رہتی ہے، صبح جب بچے کی آنکھ کھلتی ہے تو آپ بھی اٹھ بیٹھتی ہے، دن چڑھے منہ دھلاتی ہے، آنکھوں میں کاجل لگاتی ہے اور یہ کہتی ہے:" کیا چاند سا مکھڑا نکل آیا! واہ واہ واہ!! '۔

( اردو کی پہلی کتاب، صفحہ: 38، طبع: فیروز سنز، کراچی )


-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H