دعوت وتبلیغ میں لگے ہوئے احباب کیلئے اہم اصول 👇🏻
حضرت اقدس مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کی زندگی کی آخری تقریر:
حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں اسلامی مشاورتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد تشریف لے گئے تھے (اسی سفر کے دوران آپ کی وفات ہوئی) کونسل کے اجلاس کے موقع پر آپ کو سرکاری سطح پر ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر خطاب کی دعوت دی گئی... ریڈیو پر خطاب کی دعوت تو قبول فرمالی مگر ٹیلی ویژن پر خطاب کی دعوت رد کردی اس بارے میں حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ نے جو کچھ ارشاد فرمایا، اس کا خلاصہ یہ تھا:’’
اس سلسلے میں ایک اصولی بات کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ جس طرح بھی ممکن ہو لوگوں کو پکّا مسلمان بنا کر چھوڑیں... ہاں اس بات کے مکلف ضرور ہیں کہ تبلیغِ دین کے لیے جتنے جائز ذرائع و وسائل ہمارے بس میں ہیں ان کو اختیار کرکے اپنی پوری کوشش صرف کردیں...
اسلام نے ہمیں جہاں تبلیغِ دین کا حکم دیا ہے، وہاں تبلیغ کے باوقار طریقے اور آداب بھی بتائے ہیں، ہم ان طریقوں اور آداب کے دائرہ میں رہ کر تبلیغ کے مکلف ہیں.
اگر ان جائز ذرائع اور تبلیغ کے ان آداب کے ساتھ ہم اپنی تبلیغی کوششوں میں کامیاب ہوتے ہیں تو عین مراد ہے لیکن اگر بالفرض ان جائز ذرائع سے ہمیں مکمل کامیابی نہیں ہوتی تو ہم اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ناجائز ذرائع اختیار کرکے لوگوں کو دین کی دعوت دیں اور آدابِ تبلیغ کو پس پشت ڈال کر جس جائز وناجائز طریقے سے ممکن ہو لوگوں کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کریں...
اگر ہم جائز وسائل کے ذریعے اور آدابِ تبلیغ کے ساتھ ایک شخص کو بھی دین کا پابند بنا دیں گے تو ہماری تبلیغ کامیاب ہے اور اگر ناجائز ذرائع اختیار کرکے ہم سو آدمیوں کو بھی اپنا ہم نوا بنالیں تو اس کامیابی کی اللہ کے ہاں کوئی قیمت نہیں... کیوں کہ دین کے احکام کو پامال کرکے جو تبلیغ کی جائے گی وہ دین کی تبلیغ نہیں کسی اور چیز کی تبلیغ ہوگی فلم (ٹی وی) اپنے مزاج کے لحاظ سے بذاتِ خود اسلام کے احکام کے خلاف ہے لہٰذا ہم اس کے ذریعے تبلیغِ دین کے مکلف نہیں ہیں...
اگر کوئی شخص جائز اور باوقار طریقوں سے ہماری دعوت قبول کرتا ہے تو ہمارے دیدہ ودل اس کے لیے فرش راہ ہیں لیکن جو شخص فلم (مووی، ویڈیوز) دیکھے بغیر دین کی بات سننے کے لیے تیار نہ ہو، اسے فلم کے ذریعے دعوت دینے سے ہم معذور ہیں...
اگر ہم یہ موقف اختیار کریں تو آج ہم لوگوں کے مزاج کی رعایت سے فلم کو تبلیغ کے لیے استعمال کریں گے، کل بے حجاب خواتین کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا اور رقص وسرور کی محفلوں سے لوگوں کو دین کی طرف بلانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس طرح ہم تبلیغ دین کے ایک اہم حکم کو پامال کرنے کے مرتکب ہوںگے۔‘‘
مولانا کی یہ آخری تقریر تھی اور غور سے دیکھا جائے تو یہ دعوت دین کاکام کرنے والوں کے لیے مولانا کی آخری وصیت تھی جو لوح دل پر نقش کرنے کے لائق ہے۔
( روایت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ۔ نقوشِ رفتگاں ص 105)
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H