بسم الله الرحمن الرحيم
اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔
نزول وحفاظت قرآن کریم
قرآن:
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم الشان کلام ہے جو انسانوں کی ہدایت کے لئے خالق کائنات نے اپنے آخری رسول حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت خود اپنے ذمہ لی ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ قرآن کریم میں موجود ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہ لَحَافِظُوْنَ (سورۃ الحجر آیت ۹) یہ ذکر (یعنی قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ قرآن کریم آخری آسمانی کتاب ہے جو قیامت تک کے لئے نافذ العمل رہے گی، برخلاف پہلی آسمانی کتابوں کے کہ وہ خاص قوموں اور خاص زمانوں کے لئے تھیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت تک محفوظ رکھنے کی کوئی ضمانت نہیں دی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔
وحی:
قرآن کریم چونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے اس لئے سب سے پہلے مختصراً وحی کو سمجھیں۔ وحی وہ کلام ہے جو اللہ تعالیٰ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے واسطہ یا بلا واسطہ اپنے انبیاء پر القاء فرماتا ہے، جس کے ذریعہ خالق کائنات انسان کو دنیاوی زندگی گزارنے کا طریقہ بتلاتا ہے تاکہ لوگ اس کے بتلائے ہوئے طریقہ پر دنیاوی زندگی گزارکر جہنم سے بچ کر ہمیشہ ہمیشہ کی جنت میں داخل ہوجائیں۔
انسان تین ذرائع میں سے کسی ایک ذریعہ سے علم حاصل کرتا ہے۔ ایک انسان کے حواس یعنی آنکھ، کان، منہ اور ہاتھ پاؤں، دوسرا ذریعہ عقل اور تیسرا ذریعہ وحی ہے۔ انسان کو بہت سی باتیں اپنے حواس کے ذریعہ معلوم ہوجاتی ہیں، جبکہ بہت سی عقل کے ذریعہ اور جو باتیں ان دونوں ذرائع سے معلوم نہیں ہوسکتیں ان کا علم وحی کے ذریعہ عطا کیا جاتا ہے۔حواس اور عقل کے ذریعہ حاصل شدہ علم میں غلطی کے امکان ہوتے ہیں لیکن وحی کے ذریعہ حاصل شدہ علم میں غلطی کے امکان بالکل نہیں ہوتے کیونکہ یہ علم خالق کائنات کی جانب سے انبیاء کے ذریعہ انسانوں کو پہنچتا ہے۔ غرض وحی انسان کے لئے وہ اعلیٰ ترین ذریعہ علم ہے جو اسے اسکی زندگی سے متعلق ان سوالات کا جواب مہیا کرتا ہے جو عقل وحواس کے ذریعہ حل نہیں ہوسکتے۔ یعنی صرف عقل اور مشاہدہ انسان کی رہنمائی کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ اس کی ہدایت کے لئے وحئ الہی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ چونکہ وحی عقل اور مشاہدہ سے بڑھ کر علم ہے لہذا ضروری نہیں کہ وحی کی ہر بات کا ادراک عقل سے ہوسکے۔
نزول وحی کے چند طریقے:حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر مختلف طریقوں سے وحی نازل ہوتی تھی۔
گھنٹی کی سی آواز سنائی دیتی اور آواز نے جو کچھ کہا ہوتا وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد ہوجاتا۔ جب اس طریقہ پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت زیادہ بوجھ پڑتا تھا۔
فرشتہ کسی انسانی شکل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا اور اللہ تعالیٰ کا پیغام آپ کو پہنچادیتا۔ ایسے مواقع پر عموماً حضرت جبرئیل علیہ السلام مشہور صحابی حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں تشریف لایا کرتے تھے۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام اپنی اصل صورت میں تشریف لاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر میں صرف تین مرتبہ ایسا ہوا ہے۔ ایک نبوت کے بالکل ابتدائی دور میں، دوسری بار خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ان کی اصل صورت میں دیکھنے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی اور تیسری مرتبہ معراج کے موقع پر۔
بلاواسطہ اللہ تعالیٰ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم کلامی ہوئی۔ یہ صرف ایک بار معراج کے موقع پر ہوا۔ نماز کی فرضیت اسی موقع پر ہوئی۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر کوئی بات القاء فرمادیتے تھے۔
تاریخ نزول قرآن:
ماہ رمضان کی ایک بابرکت رات لیلۃ القدر میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے لوح محفوظ سے سماء دنیا پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اس کے بعد حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا اور تقریباً ۲۳ سال کے عرصہ میں قرآن کریم مکمل نازل ہوا۔ قرآن کریم کا تدریجی نزول اُس وقت شروع ہوا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک چالیس سال تھی۔ قرآن کریم کی سب سے پہلی جو آیتیں غارِ حرا میں اتریں وہ سورۂ علق کی ابتدائی آیات ہیں: اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمْ پڑھو اپنے اس پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو منجمد خون سے پیدا کیا۔ پڑھو، اور تمہارا پروردگار سب سے زیادہ کریم ہے۔ اس پہلی وحی کے نزول کے بعد تین سال تک وحی کے نزول کا سلسلہ بند رہا۔ تین سال کے بعد وہی فرشتہ جو غار حرا میں آیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سورۃ المدثر کی ابتدائی چند آیات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائیں: يا اَیُّہَا الْمُدَثِّرْ ۔ قُمْ فَاَنْذِرْ۔ وَرَبَّکَ فَکِبِّرْ۔ وَثِيابَکَ فَطَہِّرْ۔ والرُّجْزَ فَاہْجُرْ۔اے کپڑے میں لپٹنے والے۔ اٹھو اور لوگوں کو خبردار کرو۔ اور اپنے پروردگار کی تکبیر کہو۔ اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔ اور گندگی سے کنارہ کرلو۔
اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک وحی کے نزول کا تدریجی سلسلہ جاری رہا۔ قرآن کریم کا سب سے چھوٹا حصہ جو مستقلاً نازل ہوا ہے وہ "غَيْرِ اُولِی الضَّرَرِ" (النساء ۹۵) ہے جو ایک طویل آیت کا ٹکڑا ہے۔ دوسری طرف پوری سورۃ الانعام ایک ہی مرتبہ نازل ہوئی ہے۔ غرض تقریباً ۲۳ سال کے عرصہ میں قرآن کریم مکمل نازل ہوا۔
قرآن کریم کے تدریجی نزول کا مقصد:
دیگر آسمانی کتابوں کے برخلاف قرآن کریم کو ایک دفعہ نازل کرنے کے بجائے تھوڑا تھوڑا نازل کیا گیا۔ اس کی وجہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مشرکین مکہ کے سوال کے جواب میں ان الفاظ میں بتائی ہے:
اور یہ کافرلوگ کہتے ہیں کہ ان پرسارا قرآن ایک ہی دفعہ میں کیوں نازل نہیں کردیا گیا؟ (اے پیغمبر!) ہم نے ایسا اس لئے کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ تمہارا دل مضبوط رکھیں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھوایا ہے۔ اور جب کبھی یہ لوگ تمہارے پاس کوئی انوکھی بات لے کر آتے ہیں، ہم تمہیں (اس کا) ٹھیک ٹھیک جواب اور زیادہ وضاحت کے ساتھ عطا کردیتے ہیں۔ (سورۃ الفرقان ۳۲، ۳۳)
امام رازی ؒ نے اس آیت کی تفسیر میں قرآن کریم کے تدریجی نزول کی جو حکمتیں بیان فرمائی ہیں، اُن کا خلاصۂ کلام یہ ہے:
۱) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُمی تھے، اس لئے اگر سارا قرآن ایک مرتبہ نازل ہوگیا ہوتا تو اس کا یاد رکھنا اور ضبط کرنا دشوار ہوتا۔
۲) اگر پورا قرآن ایک دفعہ میں نازل ہوجاتا تو تمام احکام کی پابندی فوراً لازم ہوجاتی اور یہ اس حکیمانہ تدریج کے خلاف ہوتا جو شریعت محمدی میں ملحوظ رہی ہے۔
۳) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم کی طرف سے ہر روز نئی اذیتیں برداشت کرنی پڑتی تھی، حضرت جبرئیل علیہ السلام کا بار بار قرآن کریم لے کر آنا ، ان اذیتوں کے مقابلے کو آسان بنادیتا تھا اور آپ کی تقویتِ قلب کا سبب بنتا تھا۔
۴) قرآن کریم کا ایک حصہ لوگوں کے سوالات کے جواب اور مختلف واقعات سے متعلق ہے۔ اس لئے ان آیتوں کا نزول اسی وقت مناسب تھا جس وقت وہ سوالات کئے گئے یا وہ واقعات پیش آئے۔
مکی ومدنی آیات وسورۃ:
ہجرت مدینہ منورہ سے قبل تقریباً ۱۳ سال تک قرآن کریم کے نزول کی آیات وسورتوں کو مکی اور مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد تقریباً ۱۰ سال تک قرآن کریم کے نزول کی آیات وسورتوں کو مدنی کہا جاتا ہے۔ کسی سورۃ کے مدنی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سورۃ کی ہر ہر آیت مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد نازل ہوئی ہو بلکہ اکثر آیتوں کے نزول کے اعتبار سے سورۃ کو مکی یا مدنی کہا گیا ہے۔
تاریخ حفاظت قرآن:
جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ قرآن کریم ایک ہی دفعہ میں نازل نہیں ہوا بلکہ ضرورت اورحالات کے اعتبار سے مختلف آیات نازل ہوتی رہیں۔ قرآن کریم کی حفاظت کے لئے سب سے پہلے حفظ قرآن پر زور دیا گیا۔ چنانچہ خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الفاظ کو اسی وقت دہرانے لگتے تھے تاکہ وہ اچھی طرح یاد ہوجائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی نازل ہوئی کہ عین نزول وحی کے وقت جلدی جلدی الفاظ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ خود آپ میں ایسا حافظہ پیدا فرمادے گا کہ ایک مرتبہ نزول وحی کے بعد آپ اسے بھول نہیں سکیں گے۔ اس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے حافظ قرآن ہیں۔ چنانچہ ہر سال ماہ رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصوں کا دور فرمایا کرتے تھے۔ جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبار قرآن کریم کا دور فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام کو قرآن کے معانی کی تعلیم ہی نہیں دیتے تھے بلکہ انہیں اس کے الفاظ بھی یاد کراتے تھے۔ خود صحابۂ کرام کو قرآن کریم یاد کرنے کا اتنا شوق تھا کہ ہر شخص ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی فکر میں رہتا تھا۔ چنانچہ ہمیشہ صحابۂ کرام میں ایک اچھی خاصی جماعت ایسی رہتی جو نازل شدہ قرآن کی آیات کو یاد کرلیتی اور راتوں کو نماز میں اسے دہراتی تھی۔ غرضیکہ قرآن کی حفاظت کے لئے سب سے پہلے حفظ قرآ ن پر زور دیا گیا اور اُس وقت کے لحاظ سے یہی طریقہ زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد تھا۔
قرآن کریم کی حفاظت کے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کو لکھوانے کا بھی خاص اہتمام فرمایا چنانچہ نزول وحی کے بعد آپ کاتبین وحی کو لکھوادیا کرتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب قرآن کریم کا کوئی حصہ نازل ہوتا تو آپ کاتب وحی کو یہ ہدایت بھی فرماتے تھے کہ اسے فلاں سورۃ میں فلاں فلاں آیات کے بعد لکھا جائے۔ اس زمانہ میں کاغذ دستیاب نہیں تھا اس لئے یہ قرآنی آیات زیادہ تر پتھر کی سلوں، چمڑے کے پارچوں، کھجور کی شاخوں، بانس کے ٹکڑوں، درخت کے پتوں اور جانور کی ہڈیوں پر لکھی جاتی تھیں۔ کاتبین وحی میں حضرت زید بن ثابتؓ، خلفاء راشدین، حضرت ابی بن کعبؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ اور حضرت معاویہؓ کے نام خاص طور پر ذکر کئے جاتے ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہد خلافت میں حفاظت قرآن:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنے قرآن کریم کے نسخے لکھے گئے تھے وہ عموماً متفرق اشیاء پر لکھے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہد خلافت میں جب جنگ یمامہ کے دوران حفاظ قرآن کی ایک بڑی جماعت شہید ہوگئی تو حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو قرآن کریم کو ایک جگہ جمع کروانے کا مشورہ دیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ ابتداء میں اس کام کے لئے تیار نہیں تھے لیکن شرح صدر کے بعد وہ بھی اس عظیم کام کے لئے تیار ہوگئے اور کاتب وحی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اس اہم وعظیم عمل کا ذمہ دار بنایا۔ اس طرح قرآن کریم کو ایک جگہ جمع کرنے کا اہم کام شروع ہوگیا۔
حضرت زید بن ثابتؓ خود کاتب وحی ہونے کے ساتھ پورے قرآن کریم کے حافظ تھے۔وہ اپنی یادداشت سے بھی پورا قرآن لکھ سکتے تھے، اُن کے علاوہ اُس وقت سینکڑوں حفاظ قرآن موجود تھے ،مگر انہوں نے احتیاط کے پیش نظر صرف ایک طریقہ پر بس نہیں کیا بلکہ ان تمام ذرائع سے بیک وقت کام لے کر اُس وقت تک کوئی آیت اپنے صحیفے میں درج نہیں کی جب تک اس کے متواتر ہونے کی تحریری اور زبانی شہادتیں نہیں مل گئیں۔ اس کے علاوہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی جو آیات اپنی نگرانی میں لکھوائی تھیں، وہ مختلف صحابۂ کرام کے پاس محفوظ تھیں، حضرت زید بن ثابتؓ نے انہیں یکجا فرمایاتاکہ نیا نسخہ ان ہی سے نقل کیا جائے۔ اس طرح خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہد خلافت میں قرآن کریم ایک جگہ جمع کردیا گیا۔
حضرت عثمان غنیؓ کے عہد خلافت میں حفاظت قرآن:
جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو اسلام عرب سے نکل کر دو دراز عجمی علاقوں تک پھیل گیا تھا۔ ہر نئے علاقہ کے لوگ ان صحابہ وتابعین سے قرآن سیکھتے جن کی بدولت انہیں اسلام کی نعمت حاصل ہوئی تھی ۔ صحابۂ کرام نے قرآن کریم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف قرأتوں کے مطابق سیکھا تھا۔ اس لئے ہر صحابی نے اپنے شاگردوں کو اسی قراء ت کے مطابق قرآن پڑھایا جس کے مطابق خود انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا تھا۔ اس طرح قرأتوں کا یہ اختلاف دور دراز ممالک تک پہنچ گیا۔ لوگوں نے اپنی قراء ت کو حق اور دوسری قرأتوں کو غلط سمجھنا شروع کردیا حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے اجازت ہے کہ مختلف قرأتوں میں قرآن کریم پڑھا جائے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیجا کہ اُن کے پاس (حضرت ابوبکر صدیقؓ کے تیار کرائے ہوئے) جوصحیفے موجود ہیں ، وہ ہمارے پاس بھیج دیں۔ چنانچہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں ایک کمیٹی تشکیل دے کر ان کو مکلف کیا گیا کہ وہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے صحیفہ سے نقل کرکے قرآن کریم کے چند ایسے نسخے تیار کریں جن میں سورتیں بھی مرتب ہوں۔ چنانچہ قرآن کریم کے چند نسخے تیار ہوئے اور ان کو مختلف جگہوں پر ارسال کردیا گیا تاکہ اسی کے مطابق نسخے تیار کرکے تقسیم کردئے جائیں۔ اس طرح امت مسلمہ میں اختلاف باقی نہ رہا اور پوری امت مسلمہ اسی نسخہ کے مطابق قرآن کریم پڑھنے لگی۔ بعد میں لوگوں کی سہولت کے لئے قرآن کریم پر نقطے وحرکات (یعنی زبر، زیر اور پیش) بھی لگائے گئے، نیز بچوں کو پڑھانے کی سہولت کے مدنظر قرآن کریم کو تیس پاروں میں تقسیم کیا گیا۔ نماز میں تلاوت قرآن کی سہولت کے لئے رکوع کی ترتیب بھی رکھی گئی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اہتمام سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والا بنائے،اس کو سمجھ کر پڑھنے والا بنائے، اس کے احکام ومسائل پر عمل کرنے والا بنائے اور اس کے پیغام کو دوسروں تک پہونچانے والا بنائے۔ آمین، ثم آمین۔
محمد نجیب قاسمی (najeebqasmi@yahoo.com)
-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H