بڑوں کی الٹی بھی سیدھی ہوتی ہے

سنو سنو!!

بڑوں کی الٹی بھی سیدھی ہوتی ہے

(ناصرالدین مظاہری)

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی فرمایا کرتے تھے کہ "بڑوں کی الٹی بھی سیدھی ہوتی ہے" یہ بات میرے حلق سے نہیں اترتی تھی لیکن تاریخ مشائخ کاندھلہ میں حضرت مولانا مظفرحسین کاندھلوی کا ایک واقعہ پڑھا تو حضرت شیخ الحدیث کا ملفوظ سمجھ میں آتا چلاگیا، ہوایہ کہ ایک بار حضرت مولانا مظفرحسین کاندھلوی شاملی یا جلال آباد کے علاقہ سے گزر رہے تھے، نماز پڑھنے کے لئے ایک مسجد پہنچے، مسجد کی حالت ناقابل بیان تھی، گردوغبار سے پوری مسجد اٹی ہوئی تھی، آپ نے سب سے پہلے مسجد کو صاف کیا، جھاڑو لگا کر گردوغبار دور کیا، کنویں سےپانی نکال کر وضو کیا، اذان دی اور نمازیوں کا انتظار کیا، کوئی نمازی نہیں پہنچا تو لوگوں سے پتہ کیا، لوگوں نے کہا کہ فلاں خان صاحب اگر نماز پڑھنے لگیں تو دوچار نمازی بڑھ جائیں گے، حضرت مولانا مظفرحسین کاندھلوی اس خان کے پاس پہنچ گئے، خان کی عجیب حالت تھی، پہلو میں ایک طوائف بیٹھی تھی، خود خان شراب کے نشے میں دھت تھا، حضرت نے خان سے کہا کہ خان صاحب اگر آپ نماز پڑھنے لگیں تو آپ کی وجہ سے کئی لوگ نماز شروع کردیں گے؟ خان نے جواب دیا کہ یار مولوی جی! مجھ سے یہ وضو نہیں ہوتا اور دوسرے یہ شراب وشباب کی لت نہیں چھوٹتی۔ حضرت نے فرمایا کہ ایک کام کرو تم بغیر وضو کے ہی نماز پڑھ لیا کرو اور جو کام کرتے ہو کرو۔ خان نے وعدہ کرلیا، حضرت وہاں سے کچھ دور گئے پھر سجدہ میں گر کر خوب روئے ، اور اللہ تعالی سےعرض کیا کہ یا اللہ ! میں نے تیرے ایک بہکے اور بھٹکے ہوئے بندے کو تیرے سامنے کھڑا تو کردیا ہے ، مقلب القلوب آپ ہیں، دلوں پر حکم رانی آپ کی ہے، ادھر حضرت کی دعائیں بارگاہ ایزدی میں جاری تھیں، ادھر ظہر کا وقت ہوگیا، خان کو اپنا وعدہ یاد آگیا، خان نے سوچا کہ اب نماز شروع کرنی ہے تو بہتر ہے کہ غسل کر لوں پھر نماز پڑھوں اور بغیر وضو کے نماز کل سے شروع کروں گا،خان نے غسل کرکے نماز پڑھی، پھر اپنے باغ پہنچا اور اسی غسل یعنی وضو سے عصر ومغرب پڑھی،پے درپے تین نمازوں سے ہی خان کی کایا پلٹ چکی تھی، حالت بدل چکی تھی، "نگاہ مرد مؤمن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں" یہاں بھی سب کچھ بدل چکاتھا، گھر میں داخل ہوا تو اپنی بیوی پر نظر پڑی، وہ بیوی جو سات سال سے اسی در اسی گھر میں رہ رہی تھی لیکن طوائفوں کی وجہ سے کبھی آنکھ اٹھا کر بھی اپنی بیوی کی طرف نہیں دیکھا تھا آج وہی بیوی نہایت حسین و جمیل نظر آئی، طوائفوں پر نظر پڑی تو صاف صاف کہہ دیا کہ آئیندہ یہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے، نوکروں سے کہہ دیا کہ میرا بستر اٹھا کر گھر کے اندر پہنچادو۔ اور پھر اس خان کی زندگی میں ایسا انقلاب آیا کہ ہزاروں لاکھوں میں کسی کو یہ دولت نصیب ہوتی ہے، تاریخ کی کتابوں میں لکھاہے کہ اس خان سے 25/ سال تک مسلسل تہجد کی نماز قضا نہیں ہوئی۔

دیکھا آپ نے، یہ ہوتے ہیں اللہ والے، یہ وہ دیکھتے ہیں جن کو ہم نہیں دیکھ سکتے، یہ وہ سنتے ہیں جن کو ہم نہیں سن سکتے، یہ وہ کرتے ہیں جن کوہم نہیں کرسکتے، یہ لوگ وہ دیکھتے ہیں جو خدا چاہتاہے، وہ کرتے ہیں جس کا اللہ کے یہاں سے حکم واشارہ ہوتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتقوا فراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنور اللہ۔ کہ اللہ والوں کی فراست ایمانی سے بچتے رہو کیونکہ یہ لوگ اللہ تعالی کے دئے ہوئے نور عرفان سے دیکھتے ہیں۔

اندازہ کیجیے! خان نے ایک بھی نماز بے وضو نہیں پڑھی، شراب اور شباب سے اسی دن تائب ہوگیا، کیونکہ "جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں" خان کے پیروں میں شیطان کی جو بیڑی پڑی تھی وہ ٹوٹ چکی تھی۔

ہم ذرا ذرا سی بات پر اپنے بڑوں سے بدگمان ہوجاتے ہیں حالانکہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں، ہم اپنے بڑوں پر انگشت نمائی سے نہیں ڈرتے حالانکہ ہمارے یہ بڑے خواہ مخواہ اچانک بڑے نہیں بنتے، کتنی ہی راتیں شب بیداری میں کاٹی ہیں ان کی جوانی بڑھاپے جیسی گزری ہے، ان کا بچپن اور پچپن ایک جیسا محسوس ہوتا ہے، بے داغ، بے غبار، صاف وشفاف۔

(15/محرم الحرام 1446ھ/

-----------------------
اب آپ اسلامک گِیان کو واٹس ایپ پر بھی فالو کر سکتے ہیں، جہاں آپ کو روزانہ اسلامی مضامین اور حالات حاضرہ سے متعلق خبریں ملتی ہیں۔ ہمارے چینل کو فالو کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VaT5KTW23n3arm5Fjr3H